ابنا: سید سمیع اللہ حسینی اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ترکی میں منعقد ہونے والی عالمی اسلامی کانفرنس میں اسلامی جمعیت طلبہ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ حال ہی میں ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد ہونے والی اسلامی بیداری اور جوانان انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستانی وفد میں شامل تھے۔ اس بیداری کانفرنس سے مرتب ہونے والے عالمی اثرات پر سید سمیع اللہ حسینی سے اسلام ٹائمز نے بات چیت کی ہے، جس کا احوال قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
اسلام ٹائمز: حال ہی میں آپ نے اسلامی بیداری اور جوانان انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی ہے، اس طرح کی کانفرنسز کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔؟سید سمیع اللہ حسینی: یہ بہت اچھی کاوش تھی جس میں ایرانی حکومت نے ہم تمام اسلامی ممالک کے نوجوانوں کو ایک جگہ مل کر بیٹھنے کا موقع فراہم کیا۔ پوری دنیا سے اسلامی تحریکوں، طلبہ یوننز، یوتھ آرگنائزیشنز کے نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے ہمیں ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کا نادر موقع فراہم کیا۔ مختلف ممالک میں کام کرنے والی اسلامی تحریکوں کے مسائل و مشکلات سے آگاہی حاصل ہوئی۔
کانفرنس میں شامل اسلامی تحریکیں اسلام کو ایک سسٹم کے طور پر اپنے ممالک میں رائج کرنے کے لئے پرامن، آئینی اور قانونی طریقے سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ تو اس کانفرنس میں تمام مسلمان ممالک سے نوجوانوں کو اپنے اپنے مسائل ڈسکس کرنے اور ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے ایک دوسرے کے موقف کو سنا اور اس پر بحث و مباحثہ کیا۔ عرب دنیا کے اندر ایک تازہ اسلامی بیداری کی لہر اٹھی ہے جو تیونس، مصر، مراکش اور یمن تک گئی اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اسی مناسبت سے اس بیداری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ میں سمحھتا ہوں کہ یہ کانفرنس ایک بہت اچھا اقدام تھا اور اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔
اسلام ٹائمز: جس طرح کہ اس کانفرنس کا نام اسلامی بیداری تھا تو کیا آپ کو بیدار مغز لوگ دیکھنے کو ملے، اور اس موقع پر نوجوانوں کے جذبات کیا تھے۔؟سید سمیع اللہ حسینی: بالکل جی تیونس، مصر، مراکش، یمن، فلسطین، پاکستان، تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک سے لوگ وہاں موجود تھے۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو اپنے ممالک میں اسلامی بیداری و انقلاب کے روح رواں تھے، وہ نوجوان تھے جو اس تبدیلی کے پیچھے تھے بلکہ اسکا ہراول دستہ تھے۔ ان کے اندر ایک جوش و ولولہ، ایک عزم اور جذبہ ہمیں دکھائی دیا۔ ہمیں ان کے اندر یہ بات بھی دکھائی دی کہ وہ نوجوان اس کو مکمل انقلاب نہیں سمجھتے، ان کی منزل کہیں اور آگے ہے، یعنی وہ اہنے ممالک میں ایک مکمل اسلامک سسٹم چاہتے ہیں۔
جو مسائل ان ممالک کو درپیش ہیں ان میں معیشت، امن و امان، لاقانونیت، بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت کا قیام ان سب مسائل کے حل تک ان کے اندر یہ جذبہ موجود ہے کہ وہ اپنے ممالک کو انقلاب کی منزل تک پہنچائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے یہ جذبہ ان کے اندر پایا بلکہ ہمیں یہ حوصلہ و تقویت ملی بلکہ ان تمام لوگوں کو تقویت حاصل ہوئی جو اسلامی انقلاب کی کاز کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسلامی بیداری و انقلاب سے بھی ہمیں حوصلہ ملا، لیکن اس انقلاب کو برپا کرنے والے نوجوانوں کو اپنے درمیان پاکر، ان سے گفت و شنید کر کے بہت تقویت حاصل ہوئی اور ہمارے اسلامی انقلاب کے جذبے میں گئی گنا اضافہ ہوا۔ انشاءاللہ ایک دن آئے گا جب لوگ سمجھیں گے کہ تمام مسائل کا حل اسلامی انقلاب میں مضمر ہے۔
اسلام ٹائمز: آپ نے اس کانفرنس میں اسلامی بیداری برپا کرنے والے بیدار مغز لوگوں سے استفادہ کیا، اس تناظر میں پاکستان کے اندر انقلاب کے لئے آپ کیا روش اپنا سکتے ہیں۔؟سید سمیع اللہ حسینی: پاکستان میں کام کرنے والی اسلامی تحریک جماعت اسلامی میں کسی قسم کی مسلکی تفریق نہیں ہے، اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ ایک مختلف تنظیم ہے اور ایک مختلف حیثیت رکھتی ہے، جو کسی فرقے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ہماری تنظیم لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں سے پاک ہے اور ہماری دعوت، امت و وحدت کی دعوت ہے۔ ہم کلمے کی بنیاد پر اور اسلام کی مشترکات پر وحدت چاہتے ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ چھوٹے چھوٹے فروعی تضادات کو بھلا کر، ایک ہو جائیں۔
الحمد اللہ اسلامی جمعیت طلبہ ایک ایسا گلدستہ ہے جسمیں ملک کے گوشے گوشے سے اور ہر مکتبہ فکر کی نمائندگی موجود ہے اور یہی وہ پیغام تھا جو ہمیں نوجوانوں کی انٹرنیشنل کانفرنس سے ملا ہے کہ مسلمانوں کو متحد ہونا چاہیے، مسلم ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے تمام اختلافات کو بھلا کر مسلمانوں کو ایک ہونا چاہیے۔ ہم جس ہدف کے لئے کام کر رہے ہیں اس کو ایک نئی تازگی ملی ہے، اس پر ایمان بڑھا ہے اور انقلاب کے حصول کے لئے مزید جوش و ولولہ پیدا ہوا ہے اور اللہ رب العالمین پر توکل بڑھا کہ وہ ہمیں بھی یہ دن دکھائے گا۔
اسلام ٹائمز: کیا حالیہ دورہ ایران کے موقع پر آپ کی ملاقات ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ہوئی۔؟سید سمیع اللہ حسینی: ہماری ان سے ایک اجتماعی ملاقات ہوئی ہے، ان کی گفتگو سے استفادے کے لئے کانفرنس کے شرکاء کو وہاں لے جایا گیا تھا، ان کی گفتگو بہت اچھی تھی۔ دو نکات میں نے ان کی گفتگو سے اخذ کئے ہیں جو بہت اہم اور بنیادی ہیں، جس سے ہم اتفاق بھی کرتے ہیں۔ ایک تو انہوں نے مسلم ممالک اور مسلم قومیتوں اور تنظیموں کے درمیان اتحاد کی بات کی۔ دوسرا ان کے نزدیک ایران مسلم ممالک کے لئے رول ماڈل ہے لیکن ایسا رول ماڈل نہیں جو تمام ممالک میں نافذ کیا جا سکے۔ باقی اسلامی ممالک کے مسائل، ثقافت، سماج، لوگوں کا مزاج مختلف ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلانے چاہییں۔ ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے، ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے۔ ایران کے اندر امام خمینی رہ کی قیادت میں 1979ء میں انقلاب آیا، جس میں ایرانی قوم نے ان کا ساتھ دیا۔ آج کے اسلامی جمہوری ایران میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کو دیگر انقلاب ایک سٹڈی کیس کے طور پر لے سکتے ہیں۔ یہ دو انتہائی اہم نکات تھے، جو خامنہ ای صاحب نے ایک میسیج کے طور پر کانفرنس کے شرکاء کو بیان کئے، جو قابل استفادہ ہیں۔
اسلام ٹائمز: نوجوانوں کی اس بیداری کانفرنس کی روشنی میں پاکستانی نوجوانوں کے لئے کیا پیغام ہے۔؟سید سمیع اللہ حسینی: پاکستانی نوجوانوں کے لئے یہی پیغام ہے جس پر پہلے سے ہم پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ دیکھیے پوری دنیا میں اس وقت بیداری کی ایک لہر ہے۔ اللہ رب العالمین نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، جس قوم میں اپنی حالت کو بدلنے کا احساس نہ ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں بھی انقلابات آئے ہیں وہاں عوام نے اور خصوصاً نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ نوجوانوں نے کہا ہے کہہ یہ ظالمانہ، ڈکٹیٹرانہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، جسمیں عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہیں، غریب پر ظلم کیا جاتا ہے، اس آواز کو اٹھانے والا کوئی نہیں ہے اور ان کے غریبوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جاتا ہے۔ جہاں پر لوگوں کی نہیں سنی جاتی، انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ جہاں ڈکٹیٹرشپ نے سیکولر ایجنڈے کے تحت تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ نصاب سے اسلام کو نام نشان مٹا دیا گیا ہے۔
سامراج امریکہ اور مغربی طاقتوں نے مسلم ممالک میں سیاسی نظام کو بریاد کر رکھا ہے، جس کے خلاف بیداری کی لہر اٹھی ہے۔ یہودی لابی، Zionist لابی نے پوری دنیا میں پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور پوری دنیا کے وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ اس سامراج کے خلاف لوگوں میں ایک بیداری، ایک تڑپ اور ایک جذبہ پیدا ہوا ہے اور ان جذبات نے ایک حقیقت کا روپ دھارا ہے، عملی تفسیر دھاری ہے اور لوگ مشرق وسطٰی میں استعماری نظام کے خلاف اٹھے ہیں، بیدار ہوئے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ کسی ایسے انقلاب کو تقویت نہ دیں جو لوگوں کے دکھوں کا مداوہ نہیں کر سکتا اور جو دیرپا نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی انقلاب کے لئے جدوجہد کریں کہ جو ایک ایسا نظام ہے جسمیں تمام دکھوں کا مداوہ موجود ہے اور جو ساری دنیا کی فلاح کا ضامن ہے۔
بطور قوم 64 سالوں میں ہم کئی دھوکے کھا چکے ہیں اب ہمیں ہوشیاری کا ثبوت دینا ہو گا اور ایسے انقلاب کا ساتھ نہ دیں جو سوائے دھوکے کے کچھ نہیں ہے۔ ہمیں دنیا میں اٹھنے والی اس بیداری کی لہر کو جاننا چاہیے۔ ہمارے ملک کو جس سیکولر سسٹم کی طرف آج لے جایا جا رہا ہے، ایک لبرل نظام کی طرف، ایک آزاد اور مادہ پرستانہ نظام کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ اس نظام کی طرف مشرق وسطٰی اور خصوصاً ترکی اور مصر اس نظام کی انتہا کو پہنچ چکے تھے جو اس سیکولر نظام کا مزا چکھ کر واپس آ رہے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اس وقت سامراج اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے، میری پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں سے اپیل ہے کہ حالات کا بغور مطالعہ کریں اور صحیح سمت میں فیصلہ کریں اور یاد رکھیں کہ اس ملک کے اندر ایک سطحی نظام جسکی بنیادیں نہ ہوں، وہ اس کے مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتا۔ وہی لوگ جو امانت دار ہیں، دیانتدار ہیں، اسلام کا فہم رکھتے ہیں، وہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ عوام اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
اسلام ٹائمز: اس عالمی کانفرنس میں کون سی چیز آپکو سب سے زیادہ دلچسب لگی۔؟سید سمیع اللہ حسینی: یہ ایک حسن اتفاق تھا، ہمیں بتایا گیا کہ اس کانفرنس میں ستر مسلم ممالک سے مندوبین شریک تھے۔ میڈیا کے پراپنگنڈے اور سازشوں کے باوجود تمام اسلامی ممالک کے نوجوان اتنے بڑے پیمانے پر یکجا ہوئے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سنا۔ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا۔ یہ ایک بہت فائدے مند موقع تھا ہم نے اس چیز کا اظہار وہاں بھی کیا کہ اس کانفرنس کی خوبیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔ دوسری چیز یہ کہ ہمیں پوری دنیا سے اسلام کے ماننے والوں کا گلدستہ ملا ہے، جس میں مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافت کے لوگ ایک جگہ اکھٹے ہوئے اور انہوں نے دنیا میں اسلام کے غلبے کی بات کی۔
اسلام ٹائمز: پنجاب یونیورسٹی میں پچھلے دنوں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، تو ایسے معاملات میں آپ کی گرفت کیوں کمزور ہے۔؟ سید سمیع اللہ حسینی: جب آپ کے ساتھ چلنے والے کچے ذہن کے نوجوان ہوں اور سوسائٹی کے اندر انتشار پیدا کرنے والے ادارے بھی موجود ہوں تو طلبہ کو منظم رکھنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ بہرحال ہم ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے اور اپنے آئین، دستور اور روایات کے تحت جائزہ لیکر اس کی تادیب بھی کرتے ہیں۔........
/169